EN हिंदी
ابن انشا شیاری | شیح شیری

ابن انشا شیر

30 شیر

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

T'was a full moon out last night, all evening there was talk of you
Some people said it was the moon,and some said that it was you

ابن انشا




کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوست
ہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھا

ابن انشا




جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے
کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہے

ابن انشا




جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانا کیا

ابن انشا




اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا

Who should I meet in this town, all company I eschew
Every one now just talks of you, each one crazy for you

ابن انشا




انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا

ابن انشا




آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئی
لب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہوا

ابن انشا




حسن سب کو خدا نہیں دیتا
ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی

ابن انشا




حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا
تم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو خاموش رہو

ابن انشا