شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ
حمایت علی شاعرؔ
روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا
اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا
حمایت علی شاعرؔ
پھر مری آس بڑھا کر مجھے مایوس نہ کر
حاصل غم کو خدا را غم حاصل نہ بنا
حمایت علی شاعرؔ
میں سوچتا ہوں اس لیے شاید میں زندہ ہوں
ممکن ہے یہ گمان حقیقت کا گیان دے
حمایت علی شاعرؔ
اب نہ کوئی منزل ہے اور نہ رہ گزر کوئی
جانے قافلہ بھٹکے اب کہاں کہاں یارو
حمایت علی شاعرؔ
میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ مری بات
خوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جائے
حمایت علی شاعرؔ
کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش
جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ
حمایت علی شاعرؔ
اس جہاں میں تو اپنا سایہ بھی
روشنی ہو تو ساتھ چلتا ہے
حمایت علی شاعرؔ
اس دشت سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے
چمکی جو ذرا دھوپ تو جلنے لگے سائے
حمایت علی شاعرؔ

