پہچان جن سے تھی وہ حوالے مٹا دیے
اس نے کتاب ذات کا صفحہ بدل دیا
فاطمہ حسن
مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے
بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے
فاطمہ حسن
میں نے پہنچایا اسے جیت کے ہر خانے میں
میری بازی تھی مری مات سمجھتا ہی نہیں
فاطمہ حسن
میں نے ماں کا لباس جب پہنا
مجھ کو تتلی نے اپنے رنگ دیے
فاطمہ حسن
آنکھوں میں نہ زلفوں میں نہ رخسار میں دیکھیں
مجھ کو مری دانش مرے افکار میں دیکھیں
فاطمہ حسن
کوئی نہیں ہے میرے جیسا چاروں اور
اپنے گرد اک بھیڑ سجا کر تنہا ہوں
فاطمہ حسن
کتنے اچھے لوگ تھے کیا رونقیں تھیں ان کے ساتھ
جن کی رخصت نے ہمارا شہر سونا کر دیا
فاطمہ حسن
خوابوں پر اختیار نہ یادوں پہ زور ہے
کب زندگی گزاری ہے اپنے حساب میں
فاطمہ حسن
کب اس کی فتح کی خواہش کو جیت سکتی تھی
میں وہ فریق ہوں جس کو کہ ہار جانا تھا
فاطمہ حسن

