EN हिंदी
اطہر نادر شیاری | شیح شیری

اطہر نادر شیر

22 شیر

لوگ کیا سادہ ہیں امید وفا رکھتے ہیں
جیسے معلوم نہیں ان کو حقیقت تیری

اطہر نادر




کوئی نہیں ہے ایسا کہ اپنا کہیں جسے
کیسا طلسم ٹوٹا ہے اپنے گمان کا

اطہر نادر




آدمی کا عمل سے رشتہ ہے
کام آتا نہیں نسب کچھ بھی

اطہر نادر




کس درجہ مرے شہر کی دل کش ہے فضا بھی
مانوس ہر اک چیز ہے مٹی بھی ہوا بھی

اطہر نادر




کٹا نہ کوہ الم ہم سے کوہ کن کی طرح
بدل سکا نہ زمانہ ترے چلن کی طرح

اطہر نادر




جو دیکھتا ہوں زمانے کی نا شناسی کو
یہ سوچتا ہوں کہ اچھا تھا بے ہنر رہتا

اطہر نادر




جو دیکھیے تو زمانہ ہے تیز رو کتنا
طلوع صبح ابھی ہے تو وقت شام ابھی

اطہر نادر




جب بھی ملتا ہے مسکراتا ہے
خواہ اس کا ہو اب سبب کچھ بھی

اطہر نادر




ہو گئی شام ڈھل گیا سورج
دن کو شب میں بدل گیا سورج

اطہر نادر