EN हिंदी
انجم لدھیانوی شیاری | شیح شیری

انجم لدھیانوی شیر

17 شیر

خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم
کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں

انجم لدھیانوی




اس نے دریا کو لگا کر ٹھوکر
پیاس کی عمر بڑھائی ہوگی

انجم لدھیانوی




تیرے جاتے ہی یہ ہوا محسوس
آئنے مسکرانا بھول گئے

انجم لدھیانوی




سنتے ہیں اک ہوا کا جھونکا
اک خوشبو کو لے بھاگا ہے

انجم لدھیانوی




صبح کا خواب عمر بھر دیکھا
اور پھر نیند آ گئی انجمؔ

انجم لدھیانوی




راہ وفا پر چلنے والے
یہ رستہ ویران بہت ہے

انجم لدھیانوی




رنگ ہی سے فریب کھاتے رہیں
خوشبوئیں آزمانا بھول گئے

انجم لدھیانوی




نیند کیوں ٹوٹ گئی آخر شب
کون میرے لئے تڑپا ہوگا

انجم لدھیانوی




خوشبوئیں پھوٹ کے روئی ہوں گی
گل ہواؤں میں جو بکھرا ہوگا

انجم لدھیانوی