EN हिंदी
امیر قزلباش شیاری | شیح شیری

امیر قزلباش شیر

33 شیر

مرے گھر میں تو کوئی بھی نہیں ہے
خدا جانے میں کس سے ڈر رہا ہوں

امیر قزلباش




اسے بے چین کر جاؤں گا میں بھی
خموشی سے گزر جاؤں گا میں بھی

امیر قزلباش




اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا

امیر قزلباش




وقت کے ساتھ بدلنا تو بہت آساں تھا
مجھ سے ہر وقت مخاطب رہی غیرت میری

امیر قزلباش




یار کیا زندگی ہے سورج کی
صبح سے شام تک جلا کرنا

امیر قزلباش




یکم جنوری ہے نیا سال ہے
دسمبر میں پوچھوں گا کیا حال ہے

امیر قزلباش




زندگی اور ہیں کتنے ترے چہرے یہ بتا
تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شناسائی ہے

امیر قزلباش




زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہ تھا
رہ گیا وہ صرف دو اک گام سے

امیر قزلباش




آئنے سے نظر چراتے ہیں
جب سے اپنا جواب دیکھا ہے

امیر قزلباش