EN हिंदी
دعا شیاری | شیح شیری

دعا

61 شیر

زباں پہ شکوۂ بے مہریٔ خدا کیوں ہے؟
دعا تو مانگیے آتشؔ کبھی دعا کی طرح

آتش بہاولپوری




کہ جیسے کنج چمن سے صبا نکلتی ہے
ترے لیے میرے دل سے دعا نکلتی ہے

ابرار احمد




خداوندا کرم کر فضل کر احوال پر میرے
نظر کر آپ پر مت کر نظر افعال پر میرے

آبرو شاہ مبارک




تکمیل آرزو سے بھی ہوتا ہے غم کبھی
ایسی دعا نہ مانگ جسے بد دعا کہیں

ابو محمد سحر




ابھی دلوں کی طنابوں میں سختیاں ہیں بہت
ابھی ہماری دعا میں اثر نہیں آیا

آفتاب حسین




میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی
ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے

احمد فراز




آخر دعا کریں بھی تو کس مدعا کے ساتھ
کیسے زمیں کی بات کہیں آسماں سے ہم

احمد ندیم قاسمی