EN हिंदी
کسی طرح بھی تو وہ راہ پر نہیں آیا | شیح شیری
kisi tarah bhi to wo rah par nahin aaya

غزل

کسی طرح بھی تو وہ راہ پر نہیں آیا

آفتاب حسین

;

کسی طرح بھی تو وہ راہ پر نہیں آیا
ہمارے کام ہمارا ہنر نہیں آیا

وہ یوں ملا تھا کہ جیسے کبھی نہ بچھڑے گا
وہ یوں گیا کہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا

ہم آپ اپنا مقدر سنوار لیتے مگر
ہمارے ہاتھ کف کوزہ گر نہیں آیا

خبر تو تھی کہ مآل سفر ہے کیا لیکن
خیال ترک سفر عمر بھر نہیں آیا

میں اپنی آنکھ کے روزن سے دیکھ سکتا ہوں
وہ پھول بھی جو ابھی شاخ پر نہیں آیا

ابھی دلوں کی طنابوں میں سختیاں ہیں بہت
ابھی ہماری دعا میں اثر نہیں آیا