EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اسلام کا ثبوت ہے اے شیخ کفر سے
تسبیح ٹوٹ جائے جو زنار ٹوٹ جائے

منور خان غافل




جی میں آتا ہے مے کشی کیجے
تاک کر کوئی سایہ دار درخت

منور خان غافل




کون دریائے محبت سے اتر سکتا ہے پار
کشتیٔ فرہاد آخر کوہ سے ٹکرا گئی

منور خان غافل




خط نویسی یہ ہے تو مشتاقو
ہاتھ اک دن قلم تمہارے ہیں

منور خان غافل




کوچۂ جاناں میں یارو کون سنتا ہے مری
مجھ سے واں پھرتے ہیں لاکھوں داد اور بیداد میں

منور خان غافل




کیا خبر ہے ہم سے مہجوروں کی ان کو روز عید
جو گلے مل کر بہم صرف مبارک باد ہیں

منور خان غافل




لیلۃ القدر ہے ہر شب اسے ہر روز ہے عید
جس نے مے خانہ میں ماہ رمضاں دیکھا ہے

منور خان غافل