EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

لطف تب امرد پرستی کا ہے باغ خلد میں
پاس بیٹھے جبکہ غلماں اور کھڑی ہو حور دور

منور خان غافل




مرتبہ معشوق کا عاشق سے بالا دست ہے
خار کی جا زیر پا گل کا مکاں دستار پر

منور خان غافل




نکلا نہ داغ دل سے ہمارا تو کوئی کام
نہ وہ چراغ دیر نہ شمع حرم ہوا

منور خان غافل




پروانے کے حضور جلایا نہ شمع کو
بلبل کے آگے پھول نہ توڑا گلاب کا

منور خان غافل




ستانا قتل کرنا پھر جلانا
وہ بے تعلیم کیا کیا جانتے ہیں

منور خان غافل




ستارے گم ہوئے خورشید نکلا
عرق جب یار نے پونچھا جبیں سے

منور خان غافل




ترک شراب بھی جو کروں گا تو محتسب
توڑوں گا تیرے سر سے پیالہ شراب کا

منور خان غافل