EN हिंदी
غلام ربانی تاباںؔ شیاری | شیح شیری

غلام ربانی تاباںؔ شیر

22 شیر

میرے افکار کی رعنائیاں تیرے دم سے
میری آواز میں شامل تری آواز بھی ہے

غلام ربانی تاباںؔ




منزلیں راہ میں تھیں نقش قدم کی صورت
ہم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا کسی منزل کی طرف

غلام ربانی تاباںؔ




آنسوؤں سے کوئی آواز کو نسبت نہ سہی
بھیگتی جائے تو کچھ اور نکھرتی جائے

غلام ربانی تاباںؔ




لب نگار کو زحمت نہ دو خدا کے لیے
ہم اہل شوق زبان نظر سمجھتے ہیں

غلام ربانی تاباںؔ




کسی کے ہاتھ میں جام شراب آیا ہے
کہ ماہتاب تہ آفتاب آیا ہے

غلام ربانی تاباںؔ




جنوں میں اور خرد میں در حقیقت فرق اتنا ہے
وہ زیر در ہے ساقی اور یہ زیر دام ہے ساقی

غلام ربانی تاباںؔ




جناب شیخ سمجھتے ہیں خوب رندوں کو
جناب شیخ کو ہم بھی مگر سمجھتے ہیں

غلام ربانی تاباںؔ




ہماری طرح خراب سفر نہ ہو کوئی
الٰہی یوں تو کسی کا نہ راہبر گم ہو

غلام ربانی تاباںؔ




غبار راہ چلا ساتھ یہ بھی کیا کم ہے
سفر میں اور کوئی ہم سفر ملے نہ ملے

غلام ربانی تاباںؔ