تباہیوں کا تو دل کی گلہ نہیں لیکن
کسی غریب کا یہ آخری سہارا تھا
غلام ربانی تاباںؔ
منزلیں راہ میں تھیں نقش قدم کی صورت
ہم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا کسی منزل کی طرف
غلام ربانی تاباںؔ
میرے افکار کی رعنائیاں تیرے دم سے
میری آواز میں شامل تری آواز بھی ہے
غلام ربانی تاباںؔ
نکھر گئے ہیں پسینے میں بھیگ کر عارض
گلوں نے اور بھی شبنم سے تازگی پائی
your cheeks with perspiration are all aglow anew
these flowers are now fresher laden with the dew
غلام ربانی تاباںؔ
رہ طلب میں کسے آرزوئے منزل ہے
شعور ہو تو سفر خود سفر کا حاصل ہے
غلام ربانی تاباںؔ
شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے
یہ آزمائش قلب و نظر کی منزل ہے
غلام ربانی تاباںؔ
یادوں کے سائے ہیں نہ امیدوں کے ہیں چراغ
ہر شے نے ساتھ چھوڑ دیا ہے تری طرح
غلام ربانی تاباںؔ
یہ مے کدہ ہے کلیسا و خانقاہ نہیں
عروج فکر و فروغ نظر کی منزل ہے
غلام ربانی تاباںؔ
یہ چار دن کی رفاقت بھی کم نہیں اے دوست
تمام عمر بھلا کون ساتھ دیتا ہے
غلام ربانی تاباںؔ

