EN हिंदी
شکیل جمالی شیاری | شیح شیری

شکیل جمالی شیر

23 شیر

مسئلہ ختم ہوا چاہتا ہے
دل بس اب زخم نیا چاہتا ہے

شکیل جمالی




میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ
اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے

شکیل جمالی




لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں
عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں

شکیل جمالی




ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ
وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے

شکیل جمالی




کوئی اسکول کی گھنٹی بجا دے
یہ بچہ مسکرانا چاہتا ہے

شکیل جمالی




کن زمینوں پہ اتارو گے امداد کا قہر
کون سا شہر اجاڑو گے بسانے کے لیے

شکیل جمالی




جھوٹ میں شک کی کم گنجائش ہو سکتی ہے
سچ کو جب چاہو جھٹلایا جا سکتا ہے

شکیل جمالی




اک بیمار وصیت کرنے والا ہے
رشتے ناطے جیبھ نکالے بیٹھے ہیں

شکیل جمالی




اک بیمار وصیت کرنے والا ہے
رشتے ناطے جیبھ نکالے بیٹھے ہیں

شکیل جمالی