رشتوں کی دلدل سے کیسے نکلیں گے
ہر سازش کے پیچھے اپنے نکلیں گے
شکیل جمالی
لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں
عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں
شکیل جمالی
میں نے ہاتھوں سے بجھائی ہے دہکتی ہوئی آگ
اپنے بچے کے کھلونے کو بچانے کے لیے
شکیل جمالی
مسئلہ ختم ہوا چاہتا ہے
دل بس اب زخم نیا چاہتا ہے
شکیل جمالی
موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا مگر آج
اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں
شکیل جمالی
موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا مگر آج
اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں
شکیل جمالی
تمہارے بعد بڑا فرق آ گیا ہم میں
تمہارے بعد کسی پہ خفا نہیں ہوئے ہم
شکیل جمالی
زندگی ایسے بھی حالات بنا دیتی ہے
لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں
شکیل جمالی
عمر کا ایک اور سال گیا
وقت پھر ہم پہ خاک ڈال گیا
شکیل جمالی

