EN हिंदी
سخی لکھنوی شیاری | شیح شیری

سخی لکھنوی شیر

54 شیر

رخ ہاتھ پہ رکھا نہ کرو وقت تکلم
ہر بات میں قرآن اٹھایا نہیں جاتا

سخی لکھنوی




نقد دل کا بڑا تقاضا ہے
گویا ان کی زمیں جوتے ہیں

سخی لکھنوی




نہ چھوڑا ہجر میں بھی خانۂ تن
رگڑوائے گی کب تک ایڑیاں روح

سخی لکھنوی




نہ عاشق ہیں زمانے میں نہ معشوق
ادھر ہم رہ گئے ہیں اور ادھر آپ

سخی لکھنوی




مرے لاشہ کو کاندھا دے کے بولے
چلو تربت میں اب تم کو سلائیں

سخی لکھنوی




میں تجھے پھر زمیں دکھاؤں گا
دیکھ مجھ سے نہ آسمان بگڑ

سخی لکھنوی




لی زباں اس کی جو منہ میں ہو گیا ذوق نبات
انگلیاں چوسیں تو ذوق نیشکر پیدا ہوا

سخی لکھنوی




کیوں حسینوں کی آنکھوں سے نہ لڑے
میری پتلی کی مردمی ہی تو ہے

سخی لکھنوی




کیا آتش فرقت نے بری پائی ہے تاثیر
اس آگ سے پانی بھی بجھایا نہیں جاتا

سخی لکھنوی