ہم بھی کسی کمان سے نکلے تھے تیر سے
یہ اور بات ہے کہ نشانے خطا ہوئے
ندا فاضلی
گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا
ندا فاضلی
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
the mosques too far so for a while
some weeping child, let us make smile
ندا فاضلی
گھر کو کھوجیں رات دن گھر سے نکلے پاؤں
وہ رستہ ہی کھو گیا جس رستے تھا گاؤں
ندا فاضلی
غم ہو کہ خوشی دونوں کچھ دور کے ساتھی ہیں
پھر رستہ ہی رستہ ہے ہنسنا ہے نہ رونا ہے
ندا فاضلی
غم ہے آوارہ اکیلے میں بھٹک جاتا ہے
جس جگہ رہئے وہاں ملتے ملاتے رہئے
ندا فاضلی
فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے
وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو
ندا فاضلی
ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک
جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا
ندا فاضلی
ایک بے چہرہ سی امید ہے چہرہ چہرہ
جس طرف دیکھیے آنے کو ہے آنے والا
ندا فاضلی