نہ گل اپنا نہ خار اپنا نہ ظالم باغباں اپنا
بنایا آہ کس گلشن میں ہم نے آشیاں اپنا
نظیر اکبرآبادی
میں ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے اس کے ہاتھ میں
چاہا ادھر گھٹا دیا چاہا ادھر بڑھا دیا
نظیر اکبرآبادی
مرتا ہے جو محبوب کی ٹھوکر پہ نظیرؔ آہ
پھر اس کو کبھی اور کوئی لت نہیں لگتی
نظیر اکبرآبادی
مضمون سرد مہریٔ جاناں رقم کروں
گر ہاتھ آئے کاغذ کشمیر کا ورق
نظیر اکبرآبادی
مری اس چشم تر سے ابر باراں کو ہے کیا نسبت
کہ وہ دریا کا پانی اور یہ خون دل ہے برساتی
نظیر اکبرآبادی
منہ زرد و آہ سرد و لب خشک و چشم تر
سچی جو دل لگی ہے تو کیا کیا گواہ ہے
نظیر اکبرآبادی
منتظر اس کے دلا تا بہ کجا بیٹھنا
شام ہوئی اب چلو صبح پھر آ بیٹھنا
نظیر اکبرآبادی
نظیرؔ تیری اشارتوں سے یہ باتیں غیروں کی سن رہا ہے
وگرنہ کس میں تھی تاب و طاقت جو اس سے آ کر کلام کرتا
نظیر اکبرآبادی
قسمت میں گر ہماری یہ مے ہے تو ساقیا
بے اختیار آپ سے شیشہ کرے گا جست
نظیر اکبرآبادی

