EN हिंदी
محسن اسرار شیاری | شیح شیری

محسن اسرار شیر

22 شیر

جس لفظ کو میں توڑ کے خود ٹوٹ گیا ہوں
کہتا بھی تو وہ اس کو گوارا نہیں ہوتا

محسن اسرار




جس دن کے گزرتے ہی یہاں رات ہوئی ہے
اے کاش وہ دن میں نے گزارا نہیں ہوتا

محسن اسرار




آنکھ سے آنکھ ملانا تو سخن مت کرنا
ٹوک دینے سے کہانی کا مزا جاتا ہے

محسن اسرار




جیسے سجدے میں قتل ہو کوئی
ایسا ہوتا ہے چاہتوں کا مزا

محسن اسرار




جگہ بدلنے سے ہیئت کہاں بدلتی ہے
جو آئنہ ہے سدا آئنہ رہے گا وہ

محسن اسرار




ہوا چراغ بجھانے لگی تو ہم نے بھی
دیے کی لو کی جگہ تیرا انتظار رکھا

محسن اسرار




ہمسائے کا سکھ تو اس کے خواب کا پورا ہونا ہے
تم پر رقت طاری ہو تو رو لو لیکن شور نہ ہو

محسن اسرار




ہم اپنے ظاہر و باطن کا اندازہ لگا لیں
پھر اس کے سامنے جانے کی تیاری کریں گے

محسن اسرار




گھر میں رہنا مرا گویا اسے منظور نہیں
جب بھی آتا ہے نیا کام بتا جاتا ہے

محسن اسرار