منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے
پہلے بچے بھی کتنے بوڑھے تھے
محمد علوی
مرے ہونے نے مجھ کو مار ڈالا
نہیں تھا تو بہت محفوظ تھا میں
محمد علوی
ملا ہمیں بس ایک خدا
اور وہ بھی بے درد ملا
محمد علوی
موت نہ آئی تو علویؔ
چھٹی میں گھر جائیں گے
محمد علوی
موت بھی دور بہت دور کہیں پھرتی ہے
کون اب آ کے اسیروں کو رہائی دے گا
محمد علوی
مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جئے گا تو
جینے کے دن تمام ہوئے انتقال کر
محمد علوی
کتنا مشکل ہے زندگی کرنا
اور نہ سوچو تو کتنا آساں ہے
محمد علوی
کسی سے کوئی تعلق رہا نہ ہو جیسے
کچھ اس طرح سے گزرتے ہوئے زمانے تھے
محمد علوی
کھڑکیوں سے جھانکتی ہے روشنی
بتیاں جلتی ہیں گھر گھر رات میں
محمد علوی

