EN हिंदी
جمال احسانی شیاری | شیح شیری

جمال احسانی شیر

25 شیر

صبح آتا ہوں یہاں اور شام ہو جانے کے بعد
لوٹ جاتا ہوں میں گھر ناکام ہو جانے کے بعد

جمال احسانی




قرار جی کو مرے جس کے نام سے آیا
وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا

جمال احسانی




قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا
وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا

جمال احسانی




مجھ کو معلوم ہے میری خاطر
کہیں اک جال بنا رکھا ہے

جمال احسانی




اور اب یہ چاہتا ہوں کوئی غم بٹائے مرا
میں اپنی مٹی کبھی آپ ڈھونے والا تھا

جمال احسانی




کسی بھی وقت بدل سکتا ہے لمحہ کوئی
اس قدر خوش بھی نہ ہو میری پریشانی پر

جمال احسانی




خود جسے محنت مشقت سے بناتا ہوں جمالؔ
چھوڑ دیتا ہوں وہ رستہ عام ہو جانے کے بعد

جمال احسانی




ختم ہونے کو ہیں اشکوں کے ذخیرے بھی جمالؔ
روئے کب تک کوئی اس شہر کی ویرانی پر

جمال احسانی




جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل
وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا

جمال احسانی