EN हिंदी
جلیل عالیؔ شیاری | شیح شیری

جلیل عالیؔ شیر

19 شیر

کیا کیا دلوں کا خوف چھپانا پڑا ہمیں
خود ڈر گئے تو سب کو ڈرانا پڑا ہمیں

جلیل عالیؔ




ذرا سی بات پر صید غبار یاس ہونا
ہمیں برباد کر دے گا بہت حساس ہونا

جلیل عالیؔ




یہ شہر طلسمات ہے کچھ کہہ نہیں سکتے
پہلو میں کھڑا شخص فرشتہ کہ بلا ہے

جلیل عالیؔ




وقت دیتا ہے جو پہچان تو یہ دیکھتا ہے
کس نے کس درد میں دل کی خوشی رکھی ہوئی ہے

جلیل عالیؔ




اسے دل سے بھلا دینا ضروری ہو گیا ہے
یہ جھگڑا ہی مٹا دینا ضروری ہو گیا ہے

جلیل عالیؔ




تمہارا کیا تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہے
ہمیں ہر ایک موسم قافلے کے ساتھ چلنا ہے

جلیل عالیؔ




تو زندگی کو جئیں کیوں نہ زندگی کی طرح
کہیں پہ پھول کہیں پر شرر بناتے ہوئے

جلیل عالیؔ




راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے
سر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے

جلیل عالیؔ




راستہ آگے بھی لے جاتا نہیں
لوٹ کر جانا بھی مشکل ہو گیا

جلیل عالیؔ