EN हिंदी
ادریس بابر شیاری | شیح شیری

ادریس بابر شیر

32 شیر

تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اور
ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا

ادریس بابر




پھول ہے جو کتاب میں اصل ہے کہ خواب ہے
اس نے اس اضطراب میں کچھ نہ پڑھا لکھا تو پھر

ادریس بابر




پر نہیں ہوتے خیالوں کے تو پھر
کیسے اڑتے ہیں غبارا سمجھو

ادریس بابر




مرے سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد میں
جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے

ادریس بابر




موت اکتا چکی ریہرسل میں
روز دو چار شخص مرتے ہیں

ادریس بابر




موت کی پہلی علامت صاحب
یہی احساس کا مر جانا ہے

ادریس بابر




مر گیا خاص طور پر میں بھی
جس طرح عام لوگ مرتے ہیں

ادریس بابر




آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیا
شام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ

ادریس بابر




میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں مگر اے دوست
میں چاہتا ہوں کہ وہ خواب پھر بہم کئے جائیں

ادریس بابر