EN हिंदी
بیکل اتساہی شیاری | شیح شیری

بیکل اتساہی شیر

27 شیر

پیسے کی بوچھار میں لوگ رہے ہمدرد
بیت گئی برسات جب موسم ہو گیا سرد

بیکل اتساہی




نشتر چاہے پھول سے برف سے مانگے خون
دھوپ کھلائے چاند کو اندھے کا قانون

بیکل اتساہی




نہ جانے کون سا نشہ ہے ان پہ چھایا ہوا
قدم کہیں پہ ہیں پڑتے کہیں پہ چلتے ہیں

بیکل اتساہی




لوگ تو جا کے سمندر کو جلا آئے ہیں
میں جسے پھونک کر آیا وہ مرا گھر نکلا

بیکل اتساہی




کواڑ بند کرو تیرہ بختو سو جاؤ
گلی میں یوں ہی اجالوں کی آہٹیں ہوں گی

بیکل اتساہی




امرت رس کی بین پر زہر کے نغمے گاؤ
مرہم سے مسکان کے زخموں کو اکساؤ

بیکل اتساہی




عشق وشق یہ چاہت واہت من کا بھلاوا پھر من بھی اپنا کیا
یار یہ کیسا رشتہ جو اپنوں کو غیر کرے مولیٰ خیر کرے

بیکل اتساہی




ہوائے عشق نے بھی گل کھلائے ہیں کیا کیا
جو میرا حال تھا وہ تیرا حال ہونے لگا

بیکل اتساہی




ہر ایک لحظہ مری دھڑکنوں میں چبھتی تھی
عجیب چیز مرے دل کے آس پاس رہی

بیکل اتساہی