EN हिंदी
احمد محفوظ شیاری | شیح شیری

احمد محفوظ شیر

22 شیر

سنا ہے شہر کا نقشہ بدل گیا محفوظؔ
تو چل کے ہم بھی ذرا اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

احمد محفوظ




شور حریم ذات میں آخر اٹھا کیوں
اندر دیکھا جائے کہ باہر دیکھا جائے

احمد محفوظ




اب اس مکاں میں نیا کوئی در نہیں کرنا
یہ کام سہل بہت ہے مگر نہیں کرنا

احمد محفوظ




مری ابتدا مری انتہا کہیں اور ہے
میں شمارۂ مہ و سال میں نہیں آؤں گا

احمد محفوظ




ملنے دیا نہ اس سے ہمیں جس خیال نے
سوچا تو اس خیال سے صدمہ بہت ہوا

احمد محفوظ




کسی سے کیا کہیں سنیں اگر غبار ہو گئے
ہمیں ہوا کی زد میں تھے ہمیں شکار ہو گئے

احمد محفوظ




کہاں کسی کو تھی فرصت فضول باتوں کی
تمام رات وہاں ذکر بس تمہارا تھا

احمد محفوظ




ہم کو آوارگی کس دشت میں لائی ہے کہ اب
کوئی امکاں ہی نہیں لوٹ کے گھر جانے کا

احمد محفوظ




گم شدہ میں ہوں تو ہر سمت بھی گم ہے مجھ میں
دیکھتا ہوں وہ کدھر ڈھونڈنے جاتا ہے مجھے

احمد محفوظ