وہ اپنے زعم میں تھا بے خبر رہا مجھ سے
اسے خبر ہی نہیں میں نہیں رہا اس کا
احمد فراز
اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا
احمد فراز
اس کا کیا ہے تم نہ سہی تو چاہنے والے اور بہت
ترک محبت کرنے والو تم تنہا رہ جاؤ گے
احمد فراز
عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا
اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے
احمد فراز
اجاڑ گھر میں یہ خوشبو کہاں سے آئی ہے
کوئی تو ہے در و دیوار کے علاوہ بھی
احمد فراز
ٹوٹا تو ہوں مگر ابھی بکھرا نہیں فرازؔ
میرے بدن پہ جیسے شکستوں کا جال ہو
احمد فراز
تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں
احمد فراز
تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے
احمد فراز
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
neither are not god nor is my love divine, profound
if human both then why does this secrecy surround
احمد فراز

