EN हिंदी
قسط شیاری | شیح شیری

قسط

40 شیر

ایسی قسمت کہاں کہ جام آتا
بوئے مے بھی ادھر نہیں آئی

That I would get a goblet it was'nt my fate
now even the whiff of wine does'nt permeate

مضطر خیرآبادی




قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

قائم چاندپوری




ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر
وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے

سجاد باقر رضوی




میں جاں بلب ہوں اے تقدیر تیرے ہاتھوں سے
کہ تیرے آگے مری کچھ نہ چل سکی تدبیر

شیخ ظہور الدین حاتم




بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا
ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا

شکیب جلالی