EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مجھ کو مزا ہے چھیڑ کا دل مانتا نہیں
گالی سنے بغیر ستمگر کہے بغیر

داغؔ دہلوی




مجھے یاد کرنے سے یہ مدعا تھا
نکل جائے دم ہچکیاں آتے آتے

داغؔ دہلوی




نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

داغؔ دہلوی




نہ رونا ہے طریقہ کا نہ ہنسنا ہے سلیقہ کا
پریشانی میں کوئی کام جی سے ہو نہیں سکتا

داغؔ دہلوی




نہ سمجھا عمر گزری اس بت کافر کو سمجھاتے
پگھل کر موم ہو جاتا اگر پتھر کو سمجھاتے

داغؔ دہلوی




ناصح نے میرا حال جو مجھ سے بیاں کیا
آنسو ٹپک پڑے مرے بے اختیار آج

داغؔ دہلوی




ناامیدی بڑھ گئی ہے اس قدر
آرزو کی آرزو ہونے لگی

داغؔ دہلوی