زاہدو پوجا تمہاری خوب ہوگی حشر میں
بت بنا دے گی تمہیں یہ حق پرستی ایک دن
منیرؔ شکوہ آبادی
زندۂ جاوید ہیں مارا جنہیں اس شوخ نے
بر طرف جو ہو گئے ان کی بحالی ہو گئی
منیرؔ شکوہ آبادی
آنکھ اپنی تری ابرو پہ جمی رہتی ہے
روز اس بیت پہ ہم صاد کیا کرتے ہیں
منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
چار بوسے تو دیا کیجیے تنخواہ مجھے
ایک بوسے پہ مرا خاک گزارا ہوگا
منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
ہر اک فقرے پہ ہے جھڑکی تو ہے ہر بات پر گالی
تم ایسے خوبصورت ہو کے اتنے بد زباں کیوں ہو
منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
ہدایت شیخ کرتے تھے بہت بہر نماز اکثر
جو پڑھنا بھی پڑی تو ہم نے ٹالی بے وضو برسوں
منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
ہجوم رنج و غم و درد ہے مروں کیوں کر
قدم اٹھاؤں جو آگے کشادہ راہ ملے
منشی دیبی پرشاد سحر بدایونی

