دل میں اک اضطراب باقی ہے
یہ نشان شباب باقی ہے
مرزا محمد تقی ہوسؔ
ہم گئے تھے اس سے کرتے شکوۂ درد فراق
مسکرا کر اس کو دیکھا سب گلا جاتا رہا
مرزا محمد تقی ہوسؔ
ہماری دیکھیو غفلت نہ سمجھے وائے نادانی
ہمیں دو دن کے بہلانے کو عمر بے مدار آئی
مرزا محمد تقی ہوسؔ
ہوس ہم پار ہویں کیونکہ دریائے محبت سے
قضا نے بادبان کشتئ تدبیر کو توڑا
مرزا محمد تقی ہوسؔ
لطف شب مہ اے دل اس دم مجھے حاصل ہو
اک چاند بغل میں ہو اک چاند مقابل ہو
مرزا محمد تقی ہوسؔ
ماتھے پہ لگا صندل وہ ہار پہن نکلے
ہم کھینچ وہیں قشقہ زنار پہن نکلے
مرزا محمد تقی ہوسؔ
نہ کافر سے خلوت نہ زاہد سے الفت
ہم اک بزم میں تھے یہ سب سے جدا تھے
مرزا محمد تقی ہوسؔ

