EN हिंदी
شکیل بدایونی شیاری | شیح شیری

شکیل بدایونی شیر

85 شیر

رحمتوں سے نباہ میں گزری
عمر ساری گناہ میں گزری

شکیل بدایونی




نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہے
نئی دنیا کے رندوں میں خدا کا نام چلتا ہے

شکیل بدایونی




نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے
یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے

شکیل بدایونی




نظر نواز نظاروں میں جی نہیں لگتا
وہ کیا گئے کہ بہاروں میں جی نہیں لگتا

شکیل بدایونی




پھر وہی جہد مسلسل پھر وہی فکر معاش
منزل جاناں سے کوئی کامیاب آیا تو کیا

شکیل بدایونی




پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کی
دوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کی

شکیل بدایونی




سب کرشمات تصور ہیں شکیلؔ
ورنہ آتا ہے نہ جاتا ہے کوئی

شکیل بدایونی




شگفتگئ دل کارواں کو کیا سمجھے
وہ اک نگاہ جو الجھی ہوئی بہار میں ہے

شکیل بدایونی




شام غم کروٹ بدلتا ہی نہیں
وقت بھی خوددار ہے تیرے بغیر

شکیل بدایونی