EN हिंदी
قائم چاندپوری شیاری | شیح شیری

قائم چاندپوری شیر

88 شیر

قائمؔ جو کہیں ہیں فارسی یار
اس سے تو یہ ریختہ ہے بہتر

قائم چاندپوری




پہلے ہی اپنی کون تھی واں قدر و منزلت
پر شب کی منتوں نے ڈبو دی رہی سہی

قائم چاندپوری




پہلے ہی گدھا ملے جہاں شیخ
اس کعبہ کو ہے سلام اپنا

قائم چاندپوری




پروانے کی شب کی شام ہوں میں
یا روز کی شمع کی سحر ہوں

قائم چاندپوری




پوچھو ہو مجھ سے تم کہ پیے گا بھی تو شراب
ایسا کہاں کا شیخ ہوں یا پارسا ہوں میں

قائم چاندپوری




قائمؔ حیات و مرگ بز و گاؤ میں ہیں نفع
اس مردمی کے شور پہ کس کام کا ہوں میں

قائم چاندپوری




قائمؔ میں اختیار کیا شاعری کا عیب
پہنچا نہ کوئی شخص جب اپنے ہنر تلک

قائم چاندپوری




قاضی خبر لے مے کو بھی لکھا ہے واں مباح
رشوت کا ہے جواز تری جس کتاب میں

قائم چاندپوری




قائمؔ میں ریختہ کو دیا خلعت قبول
ورنہ یہ پیش اہل ہنر کیا کمال تھا

قائم چاندپوری