پھر اس مذاق کو جمہوریت کا نام دیا
ہمیں ڈرانے لگے وہ ہماری طاقت سے
نعمان شوق
مجھ کو بھی پہلے پہل اچھے لگے تھے یہ گلاب
ٹہنیاں جھکتی ہوئیں اور تتلیاں اڑتی ہوئیں
نعمان شوق
نام ہی لے لے تمہارا کوئی
دونوں ہاتھوں سے لٹاؤں خود کو
نعمان شوق
نام سے اس کے پکاروں خود کو
آج حیران ہی کر دوں خود کو
نعمان شوق
پاؤں کے نیچے سے پہلے کھینچ لی ساری زمیں
پیار سے پھر نام میرا شاہ عالم رکھ دیا
نعمان شوق
پہنتے خاک ہیں خاک اوڑھتے بچھاتے ہیں
ہماری رائے بھی لی جائے خوش لباسی پر
نعمان شوق
پوچھو کہ اس کے ذہن میں نقشہ بھی ہے کوئی
جس نے بھرے جہان کو زیر و زبر کیا
نعمان شوق
ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی
یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم
نعمان شوق
قاعدے بازار کے اس بار الٹے ہو گئے
آپ تو آئے نہیں پر پھول مہنگے ہو گئے
نعمان شوق

