EN हिंदी
نعمان شوق شیاری | شیح شیری

نعمان شوق شیر

85 شیر

محبت والے ہیں کتنے زمیں پر
اکیلا چاند ہی بے نور ہے کیا

نعمان شوق




نام سے اس کے پکاروں خود کو
آج حیران ہی کر دوں خود کو

نعمان شوق




پاؤں کے نیچے سے پہلے کھینچ لی ساری زمیں
پیار سے پھر نام میرا شاہ عالم رکھ دیا

نعمان شوق




پہنتے خاک ہیں خاک اوڑھتے بچھاتے ہیں
ہماری رائے بھی لی جائے خوش لباسی پر

نعمان شوق




پھر اس مذاق کو جمہوریت کا نام دیا
ہمیں ڈرانے لگے وہ ہماری طاقت سے

نعمان شوق




پھول وہ رکھتا گیا اور میں نے روکا تک نہیں
ڈوب بھی سکتی ہے میری ناؤ سوچا تک نہیں

نعمان شوق




پوچھو کہ اس کے ذہن میں نقشہ بھی ہے کوئی
جس نے بھرے جہان کو زیر و زبر کیا

نعمان شوق




قاعدے بازار کے اس بار الٹے ہو گئے
آپ تو آئے نہیں پر پھول مہنگے ہو گئے

نعمان شوق




ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی
یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم

نعمان شوق