نہ پاک ہوگا کبھی حسن و عشق کا جھگڑا
وہ قصہ ہے یہ کہ جس کا کوئی گواہ نہیں
حیدر علی آتش
مست ہاتھی ہے تری چشم سیہ مست اے یار
صف مژگاں اسے گھیرے ہوئے ہے بھالوں سے
حیدر علی آتش
مہندی لگانے کا جو خیال آیا آپ کو
سوکھے ہوئے درخت حنا کے ہرے ہوئے
حیدر علی آتش
مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
حیدر علی آتش
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
حیدر علی آتش
نہ جب تک کوئی ہم پیالہ ہو میں مے نہیں پیتا
نہیں مہماں تو فاقہ ہے خلیل اللہ کے گھر میں
حیدر علی آتش
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
حیدر علی آتش
قامت تری دلیل قیامت کی ہو گئی
کام آفتاب حشر کا رخسار نے کیا
حیدر علی آتش
پیام بر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
حیدر علی آتش

