EN हिंदी
غلام مرتضی راہی شیاری | شیح شیری

غلام مرتضی راہی شیر

47 شیر

پرکھوں سے چلی آتی ہے یہ نقل مکانی
اب مجھ سے بھی خالی مرا گھر ہونے لگا ہے

غلام مرتضی راہی




میری پہچان بتانے کا سوال آیا جب
آئنوں نے بھی حقیقت سے مکرنا چاہا

غلام مرتضی راہی




میری کشتی کو ڈبو کر چین سے بیٹھے نہ تو
اے مرے دریا! ہمیشہ تجھ میں طغیانی رہے

غلام مرتضی راہی




میں ترے واسطے آئینہ تھا
اپنی صورت کو ترس اب کیا ہے

غلام مرتضی راہی




کچھ ایسے دیکھتا ہے وہ مجھے کہ لگتا ہے
دکھا رہا ہے مجھے میرا آئنا کچھ اور

غلام مرتضی راہی




کوئی اک ذائقہ نہیں ملتا
غم میں شامل خوشی سی رہتی ہے

غلام مرتضی راہی




کتنا بھی رنگ و نسل میں رکھتے ہوں اختلاف
پھر بھی کھڑے ہوئے ہیں شجر اک قطار میں

غلام مرتضی راہی




کسی نے بھیج کر کاغذ کی کشتی
بلایا ہے سمندر پار مجھ کو

غلام مرتضی راہی




کسی کی راہ میں آنے کی یہ بھی صورت ہے
کہ سایہ کے لیے دیوار ہو لیا جائے

غلام مرتضی راہی