سو بار ترا دامن ہاتھوں میں مرے آیا
جب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریباں تھا
اصغر گونڈوی
نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں
ہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی
o foolish priest the offering of love you do not know
a thousand mosques did appear wherever I did bow
اصغر گونڈوی
نہیں دیر و حرم سے کام ہم الفت کے بندے ہیں
وہی کعبہ ہے اپنا آرزو دل کی جہاں نکلے
اصغر گونڈوی
نہ کچھ فنا کی خبر ہے نہ ہے بقا معلوم
بس ایک بے خبری ہے سو وہ بھی کیا معلوم
اصغر گونڈوی
مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے
میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں
اصغر گونڈوی
مجھ کو خبر رہی نہ رخ بے نقاب کی
ہے خود نمود حسن میں شان حجاب کی
اصغر گونڈوی
مری وحشت پہ بحث آرائیاں اچھی نہیں زاہد
بہت سے باندھ رکھے ہیں گریباں میں نے دامن میں
اصغر گونڈوی
میں کیا کہوں کہاں ہے محبت کہاں نہیں
رگ رگ میں دوڑی پھرتی ہے نشتر لیے ہوئے
اصغر گونڈوی
میں کامیاب دید بھی محروم دید بھی
جلووں کے اژدحام نے حیراں بنا دیا
اصغر گونڈوی

