EN हिंदी
اختر ہوشیارپوری شیاری | شیح شیری

اختر ہوشیارپوری شیر

46 شیر

وہی مٹی ہے سب کے چہروں پر
آئنہ سب سے با خبر ہے یہاں

اختر ہوشیارپوری




شاید اپنا ہی تعاقب ہے مجھے صدیوں سے
شاید اپنا ہی تصور لئے جاتا ہے مجھے

اختر ہوشیارپوری




سر پہ طوفان بھی ہے سامنے گرداب بھی ہے
میری ہمت کہ وہی کچا گھڑا ہے دیکھو

اختر ہوشیارپوری




سیلاب امنڈ کے شہر کی گلیوں میں آ گئے
لیکن غریب شہر کا دامن نہ تر ہوا

اختر ہوشیارپوری




روح کی گہرائی میں پاتا ہوں پیشانی کے زخم
صرف چاہا ہی نہیں میں نے اسے پوجا بھی ہے

اختر ہوشیارپوری




پرانے خوابوں سے ریزہ ریزہ بدن ہوا ہے
یہ چاہتا ہوں کہ اب نیا کوئی خواب دیکھوں

اختر ہوشیارپوری




نکل کر آ گئے ہیں جنگلوں میں
مکاں کو لا مکاں کرنا پڑا ہے

اختر ہوشیارپوری




نہ جانے لوگ ٹھہرتے ہیں وقت شام کہاں
ہمیں تو گھر میں بھی رکنے کا حوصلا نہ ہوا

اختر ہوشیارپوری




مری گلی کے مکیں یہ مرے رفیق سفر
یہ لوگ وہ ہیں جو چہرے بدلتے رہتے ہیں

اختر ہوشیارپوری