EN हिंदी
عباس تابش شیاری | شیح شیری

عباس تابش شیر

53 شیر

نہ خواب ہی سے جگایا نہ انتظار کیا
ہم اس دفعہ بھی چلے آئے چوم کر اس کو

عباس تابش




رات کو جب یاد آئے تیری خوشبوئے قبا
تیرے قصے چھیڑتے ہیں رات کی رانی سے ہم

عباس تابش




رات کمرے میں نہ تھا میرے علاوہ کوئی
میں نے اس خوف سے خنجر نہ سرہانے رکھا

عباس تابش




پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا
خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے

عباس تابش




پس غبار بھی اڑتا غبار اپنا تھا
ترے بہانے ہمیں انتظار اپنا تھا

عباس تابش




پہلے تو ہم چھان آئے خاک سارے شہر کی
تب کہیں جا کر کھلا اس کا مکاں ہے سامنے

عباس تابش




نہال درد یہ دن تجھ پہ کیوں اترتا نہیں
یہ نیل کنٹھ کہیں تجھ سے بد گماں ہی نہ ہو

عباس تابش




میرا رنج مستقل بھی جیسے کم سا ہو گیا
میں کسی کو یاد کر کے تازہ دم سا ہو گیا

عباس تابش




میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو
سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

عباس تابش