شب کی شب کوئی نہ شرمندۂ رخصت ٹھہرے
جانے والوں کے لیے شمعیں بجھا دی جائیں
عباس تابش
نہال درد یہ دن تجھ پہ کیوں اترتا نہیں
یہ نیل کنٹھ کہیں تجھ سے بد گماں ہی نہ ہو
عباس تابش
نہ خواب ہی سے جگایا نہ انتظار کیا
ہم اس دفعہ بھی چلے آئے چوم کر اس کو
عباس تابش
مجھ سے تو دل بھی محبت میں نہیں خرچ ہوا
تم تو کہتے تھے کہ اس کام میں گھر لگتا ہے
عباس تابش
محبت ایک دم دکھ کا مداوا کر نہیں دیتی
یہ تتلی بیٹھتی ہے زخم پر آہستہ آہستہ
عباس تابش
ملتی نہیں ہے ناؤ تو درویش کی طرح
خود میں اتر کے پار اتر جانا چاہئے
عباس تابش
میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو
سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے
عباس تابش
میرا رنج مستقل بھی جیسے کم سا ہو گیا
میں کسی کو یاد کر کے تازہ دم سا ہو گیا
عباس تابش
موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیا
تم آئے اور بور نہ آیا درخت پر
عباس تابش

