EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کٹے گی کیسے گل نو کی زندگی یارب
کہ اس غریب کا خانوں میں گھر ابھی سے ہے

سلام سندیلوی




خوشی کے پھول کھلے تھے تمہارے ساتھ کبھی
پھر اس کے بعد نہ آیا بہار کا موسم

سلام سندیلوی




کیا اسی کو بہار کہتے ہیں
لالہ و گل سے خوں ٹپکتا ہے

سلام سندیلوی




کیا اسی کو بہار کہتے ہیں
لالہ و گل سے خوں ٹپکتا ہے

سلام سندیلوی




متاع غم مرے اشکوں ہی تک نہیں محدود
انہیں میں ٹوٹے ستاروں کو بھی شمار کرو

سلام سندیلوی




مجھ کو تو خون دل ہی پینا ہے
دست ساقی میں گر ہے جام تو کیا

سلام سندیلوی




مجھ کو تو خون دل ہی پینا ہے
دست ساقی میں گر ہے جام تو کیا

سلام سندیلوی