EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

محبت سی شے اس نے مجھ کو عطا کی
کہ خوش خوش چلوں عمر برباد کر کے

جتیندر موہن سنہا رہبر




پھر وہی سودا وہی وحشت وہی طرز جنوں
ہیں نشاں موجود سارے عشق کی تاثیر کے

جتیندر موہن سنہا رہبر




سخن سازی میں لازم ہے کمال علم و فن ہونا
محض تک بندیوں سے کوئی شاعر ہو نہیں سکتا

جتیندر موہن سنہا رہبر




تنگ پیمائی کا شکوہ ساقئ ازلی سے کیا
ہم نے سمجھا ہی نہیں دستور مے خانہ ابھی

جتیندر موہن سنہا رہبر




تو نے ہی رہ نہ دکھائی تو دکھائے گا کون
ہم تری راہ میں گمراہ ہوئے بیٹھے ہیں

جتیندر موہن سنہا رہبر




زمانہ یہ آ گیا ہے رہبرؔ کہ اہل بینش کو کون پوچھے
جمے ہیں مکار کرسیوں پر دکھا رہے ہیں گنوار آنکھیں

جتیندر موہن سنہا رہبر




آڑے آیا نہ کوئی مشکل میں
مشورے دے کے ہٹ گئے احباب

جوشؔ ملیح آبادی