محبت سی شے اس نے مجھ کو عطا کی
کہ خوش خوش چلوں عمر برباد کر کے
جتیندر موہن سنہا رہبر
پھر وہی سودا وہی وحشت وہی طرز جنوں
ہیں نشاں موجود سارے عشق کی تاثیر کے
جتیندر موہن سنہا رہبر
سخن سازی میں لازم ہے کمال علم و فن ہونا
محض تک بندیوں سے کوئی شاعر ہو نہیں سکتا
جتیندر موہن سنہا رہبر
تنگ پیمائی کا شکوہ ساقئ ازلی سے کیا
ہم نے سمجھا ہی نہیں دستور مے خانہ ابھی
جتیندر موہن سنہا رہبر
تو نے ہی رہ نہ دکھائی تو دکھائے گا کون
ہم تری راہ میں گمراہ ہوئے بیٹھے ہیں
جتیندر موہن سنہا رہبر
زمانہ یہ آ گیا ہے رہبرؔ کہ اہل بینش کو کون پوچھے
جمے ہیں مکار کرسیوں پر دکھا رہے ہیں گنوار آنکھیں
جتیندر موہن سنہا رہبر
آڑے آیا نہ کوئی مشکل میں
مشورے دے کے ہٹ گئے احباب
جوشؔ ملیح آبادی

