EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہے فہم اس کا جو ہر انسان کے دل کی زباں سمجھے
سخن وہ ہے جسے ہر شخص اپنا ہی بیاں سمجھے

جتیندر موہن سنہا رہبر




ہم رو بہ روئے شمع ہیں اس انتظار میں
کچھ جاں پروں میں آئے تو اڑ کر نثار ہوں

جتیندر موہن سنہا رہبر




ہر شے میں ہر بشر میں نظر آ رہا ہے تو
سجدے میں اپنے سر کو جھکاؤں کہاں کہاں

جتیندر موہن سنہا رہبر




کیسی کشش ہے عشق کے ٹوٹے مزار میں
میلہ لگا ہوا ہے ہمارے دیار میں

جتیندر موہن سنہا رہبر




کھنچتے جاتے ہیں خود مری جانب
مجھ کو جیوں جیوں وہ آزماتے ہیں

جتیندر موہن سنہا رہبر




محو دیدار ہوئے جاتے ہیں رہ رو سارے
اک تماشہ ہوا گویا رخ دلبر نہ ہوا

جتیندر موہن سنہا رہبر




محبت میں نہیں ہے ابتدا یا انتہا کوئی
ہم اپنے عشق کو ہی عشق کی منزل سمجھتے ہیں

جتیندر موہن سنہا رہبر