ہے فہم اس کا جو ہر انسان کے دل کی زباں سمجھے
سخن وہ ہے جسے ہر شخص اپنا ہی بیاں سمجھے
جتیندر موہن سنہا رہبر
ہم رو بہ روئے شمع ہیں اس انتظار میں
کچھ جاں پروں میں آئے تو اڑ کر نثار ہوں
جتیندر موہن سنہا رہبر
ہر شے میں ہر بشر میں نظر آ رہا ہے تو
سجدے میں اپنے سر کو جھکاؤں کہاں کہاں
جتیندر موہن سنہا رہبر
کیسی کشش ہے عشق کے ٹوٹے مزار میں
میلہ لگا ہوا ہے ہمارے دیار میں
جتیندر موہن سنہا رہبر
کھنچتے جاتے ہیں خود مری جانب
مجھ کو جیوں جیوں وہ آزماتے ہیں
جتیندر موہن سنہا رہبر
محو دیدار ہوئے جاتے ہیں رہ رو سارے
اک تماشہ ہوا گویا رخ دلبر نہ ہوا
جتیندر موہن سنہا رہبر
محبت میں نہیں ہے ابتدا یا انتہا کوئی
ہم اپنے عشق کو ہی عشق کی منزل سمجھتے ہیں
جتیندر موہن سنہا رہبر

