EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آنکھوں آنکھوں میں پلا دی مرے ساقی نے مجھے
خوف ذلت ہے نہ اندیشۂ رسوائی ہے

جتیندر موہن سنہا رہبر




آیا انہیں پسند تو ان کا ہی ہو گیا
کم تھا ہمارے دل سے ہمارا کلام کیا

جتیندر موہن سنہا رہبر




چھپے ہیں سات پردوں میں یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
انہیں میری نگاہوں نے جہاں ڈھونڈا وہاں نکلے

جتیندر موہن سنہا رہبر




دل اس کا جگر اس کا ہے جاں اس کی ہم اس کے
کس بات سے انکار کیا جائے کسی کو

جتیندر موہن سنہا رہبر




دوزخ سے بھی خراب کہوں میں بہشت کو
دو چار اگر وہاں پہ بھی سرمایہ دار ہوں

جتیندر موہن سنہا رہبر




ایک آنسو بھی اگر رو دے تو جانوں تجھ کو
میری تقدیر مجھے دیکھ کر ہنستی کیا ہے

جتیندر موہن سنہا رہبر




فرشتہ ہر بشر کو ہر زمیں کو آسماں سمجھے
کہ ہم تو عشق میں دنیا کو ہی جنت نشاں سمجھے

جتیندر موہن سنہا رہبر