مانگنے والوں کو کیا عزت و رسوائی سے
دینے والوں کی امیری کا بھرم کھلتا ہے
وحید اختر
لیتے ہیں ترا نام ہی یوں جاگتے سوتے
جیسے کہ ہمیں اپنا خدا یاد نہیں ہے
وحید اختر
کرنوں سے تراشا ہوا اک نور کا پیکر
شرمایا ہوا خواب کی چوکھٹ پہ کھڑا ہے
وحید اختر
اندھیرا اتنا نہیں ہے کہ کچھ دکھائی نہ دے
سکوت ایسا نہیں ہے جو کچھ سنائی نہ دے
وحید اختر
جو سننا چاہو تو بول اٹھیں گے اندھیرے بھی
نہ سننا چاہو تو دل کی صدا سنائی نہ دے
وحید اختر
اک دشت بے اماں کا سفر ہے چلے چلو
رکنے میں جان و دل کا ضرر ہے چلے چلو
وحید اختر
ہزاروں سال سفر کر کے پھر وہیں پہنچے
بہت زمانہ ہوا تھا ہمیں زمیں سے چلے
وحید اختر
ہر ایک لمحہ کیا قرض زندگی کا ادا
کچھ اپنا حق بھی تھا ہم پر وہی ادا نہ ہوا
وحید اختر
دشت کی اڑتی ہوئی ریت پہ لکھ دیتے ہیں لوگ
یہ زمیں میری یہ دیوار یہ در میرا ہے
وحید اختر

