راستے شہر کے سب بند ہوئے ہیں تم پر
گھر سے نکلو گے تو مخمورؔ کدھر جاؤ گے
مخمور سعیدی
مدتوں بعد ہم کسی سے ملے
یوں لگا جیسے زندگی سے ملے
مخمور سعیدی
مصلحت کے ہزار پردے ہیں
میرے چہرے پہ کتنے چہرے ہیں
مخمور سعیدی
میں اس کے وعدے کا اب بھی یقین کرتا ہوں
ہزار بار جسے آزما لیا میں نے
To this day her promises I do still believe
who a thousand times has been wont to deceive
مخمور سعیدی
اب آ گئے ہو تو ٹھہرو خرابۂ دل میں
یہ وہ جگہ ہے جہاں زندگی سنورتی ہے
مخمور سعیدی
کچھ کہنے تک سوچ لے اے بد گو انسان
سنتے ہیں دیواروں کے بھی ہوتے ہیں کان
مخمور سعیدی
کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں
گھر کہیں گم ہو گیا دیوار و در کے درمیاں
مخمور سعیدی
کون مسافر کر سکا منزل کا دیدار
پلک جھپکتے کھو گئے راہوں کے آثار
مخمور سعیدی
جانب کوچہ و بازار نہ دیکھا جائے
غور سے شہر کا کردار نہ دیکھا جائے
مخمور سعیدی

