EN हिंदी
کیف بھوپالی شیاری | شیح شیری

کیف بھوپالی شیر

35 شیر

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا
میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا

کیف بھوپالی




تھوڑا سا عکس چاند کے پیکر میں ڈال دے
تو آ کے جان رات کے منظر میں ڈال دے

کیف بھوپالی




تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے

کیف بھوپالی




تم سے مل کر املی میٹھی لگتی ہے
تم سے بچھڑ کر شہد بھی کھارا لگتا ہے

کیف بھوپالی




ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں
الجھنیں فکریں قیاس آرائیاں

کیف بھوپالی




اس نے یہ کہہ کر پھیر دیا خط
خون سے کیوں تحریر نہیں ہے

کیف بھوپالی




وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلق تھا
دشہرے سے دوالی سے بسنتوں سے بہاروں سے

کیف بھوپالی




یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں
ہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں

کیف بھوپالی




زندگی شاید اسی کا نام ہے
دوریاں مجبوریاں تنہائیاں

کیف بھوپالی