EN हिंदी
اقبال عظیم شیاری | شیح شیری

اقبال عظیم شیر

21 شیر

قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں
اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے

اقبال عظیم




جس میں نہ کوئی رنگ نہ آہنگ نہ خوشبو
تم ایسے گلستاں کو جلا کیوں نہیں دیتے

اقبال عظیم




جنوں کو ہوش کہاں اہتمام غارت کا
فساد جو بھی جہاں میں ہوا خرد سے ہوا

اقبال عظیم




کچھ ایسے زخم بھی در پردہ ہم نے کھائے ہیں
جو ہم نے اپنے رفیقوں سے بھی چھپائے ہیں

اقبال عظیم




مرے جرم وفا کا فیصلہ کچھ اس طرح ہوگا
سزا کا حکم فوری اور سماعت سرسری ہوگی

اقبال عظیم




پرسش حال کی فرصت تمہیں ممکن ہے نہ ہو
پرسش حال طبیعت کو گوارا بھی نہیں

اقبال عظیم




سفر پہ نکلے ہیں ہم پورے اہتمام کے ساتھ
ہم اپنے گھر سے کفن ساتھ لے کے آئے ہیں

اقبال عظیم




زمانہ دیکھا ہے ہم نے ہماری قدر کرو
ہم اپنی آنکھوں میں دنیا بسائے بیٹھے ہیں

اقبال عظیم




یوں سر راہ ملاقات ہوئی ہے اکثر
اس نے دیکھا بھی نہیں ہم نے پکارا بھی نہیں

اقبال عظیم