نبھے تھی آن انہوں کی ہمیشہ عشق میں خوب
تمہارے دور میں میری گدا ہوئیں آنکھیں
حسرتؔ عظیم آبادی
نا خلف بسکہ اٹھی عشق و جنوں کی اولاد
کوئی آباد کن خانۂ زنجیر نہیں
حسرتؔ عظیم آبادی
محبت ایک طرح کی نری سماجت ہے
میں چھوڑوں ہوں تری اب جستجو ہوا سو ہوا
حسرتؔ عظیم آبادی
مت ہلاک اتنا کرو مجھ کو ملامت کر کر
نیک نامو تمہیں کیا مجھ سے ہے بد نام سے کام
حسرتؔ عظیم آبادی
بھر کے نظر یار نہ دیکھا کبھی
جب گیا آنکھ ہی بھر کر گیا
حسرتؔ عظیم آبادی
میں حسرتؔ مجتہد ہوں بت پرستی کی طریقت کا
نہ پوچھو مجھ کو کیسا کفر ہے اسلام کیا ہوگا
حسرتؔ عظیم آبادی
ماخوذ ہوگے شیخ ریا کار روز حشر
پڑھتے ہو تم عذاب کی آیات بے طرح
حسرتؔ عظیم آبادی
کھیلیں آپس میں پری چہرہ جہاں زلفیں کھول
کون پوچھے ہے وہاں حال پریشاں میرا
حسرتؔ عظیم آبادی
کافر عشق ہوں اے شیخ پہ زنہار نہیں
تیری تسبیح کو نسبت مری زنار کے ساتھ
حسرتؔ عظیم آبادی

