EN हिंदी
فانی بدایونی شیاری | شیح شیری

فانی بدایونی شیر

83 شیر

پھر کسی کی یاد نے تڑپا دیا
پھر کلیجہ تھام کر ہم رہ گئے

فانی بدایونی




نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم

فانی بدایونی




نہ انتہا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو یہ بھی کیا معلوم

فانی بدایونی




نا مہربانیوں کا گلا تم سے کیا کریں
ہم بھی کچھ اپنے حال پہ اب مہرباں نہیں

فانی بدایونی




ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر
آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے

فانی بدایونی




نہیں ضرور کہ مر جائیں جاں نثار تیرے
یہی ہے موت کہ جینا حرام ہو جائے

فانی بدایونی




روز ہے درد محبت کا نرالا انداز
روز دل میں تری تصویر بدل جاتی ہے

فانی بدایونی




روح ارباب محبت کی لرز جاتی ہے
تو پشیمان نہ ہو اپنی جفا یاد نہ کر

فانی بدایونی




روز جزا گلہ تو کیا شکر ستم ہی بن پڑا
ہائے کہ دل کے درد نے درد کو دل بنا دیا

فانی بدایونی