EN हिंदी
باقی صدیقی شیاری | شیح شیری

باقی صدیقی شیر

33 شیر

کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو

باقی صدیقی




تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا

باقی صدیقی




ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو

باقی صدیقی




وقت کا پتھر بھاری ہوتا جاتا ہے
ہم مٹی کی صورت دیتے جاتے ہیں

باقی صدیقی




وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں
کوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو

باقی صدیقی




یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے

باقی صدیقی




یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

باقی صدیقی




زندگی کی بساط پر باقیؔ
موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ

باقی صدیقی




باقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاں
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو

باقی صدیقی